A Review Of میکہ کوائن

یہاں ملک کے پاس موجود بٹ کوائنز کی تعداد ڈچ محقق ایلیاس کے ٹویٹس سے جمع کی گئی ہے جو اس پورٹ فولیو پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ چلاتے ہیں۔ ایل سیلواڈور میں اس بات کا عوامی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا کہ کتنے سکے اور کس قیمت پر خریدے گئے۔

مختصر مدت کے کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے دیگر خطرات بھی ہیں۔ اس کی قیمتیں تیزی سے تبدیل ہوتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جہاں بہت سے لوگوں نے صحیح وقت پر خرید کر تیزی سے پیسہ کمایا ہے، وہیں بہت سے دوسرے لوگوں نے کرپٹو کریش سے ٹھیک پہلے ایسا کر کے پیسے کھو دیے ہیں۔

کرپٹو کرنسی کے مقبول ترین والیٹس میں ہاٹ اور کولڈ، دونوں والیٹس شامل ہیں۔ کرپٹو کرنسی والیٹس، ہاٹ والیٹس اور کولڈ والیٹس سے مختلف ہوتے ہیں۔ ہاٹ والیٹس کو ویب سے مربوط کیا جا سکتا ہے، جبکہ کولڈ والیٹس کو کوائنز کی ایک بڑی تعداد کو انٹرنیٹ سے باہر رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن نے حال ہی میں تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے جس کے بعد پہلی مرتبہ اس کی قیمت ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ ہو گئی تھی۔

ظاہری ہیئت عطیہ دیجیے کھاتہ بنائیں داخل ہوں ذاتی آلات عطیہ دیجیے کھاتہ بنائیں داخل ہوں

ہو سکتا ہے بہت سارے لوگوں کو کرپٹو کرنسی کے بارے میں نہ معلوم ہو لیکن بِٹ کوائن کا نام سب نے ہی سُن رکھا ہوگا۔ لیکن یہ ہے کیا؟

یہ کرنسیاں اداروں کی طرف سے بنائی جاتی تھیں۔ وہی ان کا نظام سنبھالتے تھے لیکن ان میں چند خرابیاں تھیں ۔ مثلاً : اداروں کا دیوالیہ ہو جانا یا صارفین کی رقم لے کر ادراے کا غائب ہو جانا یا مخصوص ممالک کی طرف سے قانونی مسائل کا ہونا۔ ان مسائل کےباعث یہ کرنسیاں زیادہ نہ چل سکیں ۔

سرمایہ کاروں کو ورایتی کرنسیوں کو ڈیجیٹل کرنسیوں میں تبدیل کرنے کے لیے اکثر فیس بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔

اس قابل بٹ کوائنز منافع عمل کو ’مائننگ‘ کہا جاتا ہے، مگر یہ عمل متنازع بھی ہے کیونکہ دنیا بھر میں لوگ سب سے پہلے تصدیق کی دوڑ میں رہتے ہیں اور اسی سبب برقی توانائی بھی ضائع ہوتی ہے۔

بھوٹان نے باضابطہ طور پر انکشاف نہیں کیا ہے کہ یہ کریپٹوکرنسی میں کتنا ہے۔

ہاٹ والٹ انٹرنیٹ سے منسلک ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس تک رسائی تیز ہوتی ہے اور اس سے رقوم کی منتقلی بھی آسان ہے۔

گاڑی میں ٹوائلٹ سیٹ: کیا چینی کمپنی کار میں بیت الخلا نصب کرنے جا رہی ہے؟

چونکہ بٹ کوائن کا نظام بلاک چین ٹیکنالوجی پر قائم ہے اور اس میں تمام ریکارڈ نیٹ ورک میں موجود تمام کمپیوٹرز/ نوڈز میں ہوتا ہے۔ مائیر کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ ٹرانزیکشن جس کا ایک مخصوص کوڈ ہوتا ہے وہ اس کو چیک کرتا ہے کہ یہ بٹ کوائن حسن کے پاس کیسے آیا اور وہ اس ٹرانزیکشن سے قبل اس کو کسی اور جگہ پر خرچ تو نہیں کر چکا۔ جب مائینز مطمئن ہو جاتا ہے تو وہ اس ٹرانزیکشن کی تصدیق کر دیتا ہے اور بٹ کوائن حسن کی ملکیت سے نکل کر زید کی ملکیت میں آ جاتا ہے۔ اس عمل کو مائیٹنگ کہتے ہیں۔ اس کو پروف آف ورک بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمل انتہائی محنت طلب اور بے انتہا مہنگا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ آتا ہے کہ جو شخص اتنی محنت اور سرمایہ خرچ کر کے اس تصدیق کے عمل کو سر انجام دیتا ہے اس میں اس کا کیا فائدہ ہے؟

کافی تعداد میں افراد کے لیے کریپٹوگرافک نقد رقم حاصل کرنے کی سب سے واضح تکنیک سولانا ٹوکنز اسے خریدنا ہے یا تو تبادلہ یا کسی دوسرے مؤکل سے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *