پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بڑی مندی کے ساتھ کاروبار کا آغاز
دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک نے بٹ کوائن کیوں اپنایا؟
جس طریقے سے بٹ کوائن کو بنایا گیا ہے اس کے زیادہ سے زیادہ دو کروڑ دس لاکھ کوائن ہی بن سکتے ہیں۔ ہر کوائن دنیا بھر میں رضاکار کمپیوٹرز کے نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا جانا ضروری ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسی کرنسی جو کسی ادارے کے کنٹرول میں نہیں انھیں مالی آزادی فراہم کرتی ہے، لیکن دوسری جانب اسی وجہ سے اس کرنسی کی قدر غیریقینی کا شکار رہتی ہے۔
کیا آپ کسی بھی وقت کسی وقت مائن لکی بلاک (ایل بلاک) پر کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں؟
کر پٹوکرنسیاں کچھ عرصہ قبل ہی اس نام سے مشہور ہوئی ہیں جبکہ اس سے قبل یہ ور چوئل کرنسی کے نام سے پہچانی جاتی تھیں۔ کر پٹوکرنسی کی تاریخ کو بنیادی طور پر دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ (۳)
’میرا نام سنیل پٹیل ہے، میں ایک براڈ کاسٹر اور مستقبل کا ارب پتی ہوں۔ اس برس میں اپنا ریڈیو فور شو ’سنیل پٹیل: این اِڈیئٹس گائیڈ ٹو کرپٹوکرنسی‘ کرنے میں مصروف ہوں۔ شو کرنے سے پہلے میں نے سوچا کہ کرپٹو بنیادی طور پر صرف ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں تقریبات میں پریشانی میں مبتلا لوگ بات کرتے ہیں۔ لیکن اب میرے پاس ان ماہرین میں سے ایک بننے کا موقع ہے۔‘
بٹ کوائن کا مطلب حکومتی کرنسی کی موت ہے۔ اس کا مطلب خود حکومت کی موت ہے۔ (یعنی بٹ کوائن کنٹرول کرنے والے بینکار اب دنیا پر حکومت کریں گے۔)
وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن "قیمت کی بچت" ہے۔ لیکن بٹ کوائن کی کوئی قیمت نہیں۔ جو چیز آپ رکھ نہیں سکتے اس کی بچت کیسے کر سکتے ہیں؟
We break down the promoting tension and buying frenzies because they materialize in actual time applying Bitcoin news.
مجھے امید ہے کہ اب آ پ کو تفصیل سے معلوم ہو چکا ہو گا کہ کرپٹو کرنسی کیا کریپٹو کرنسی ہے اور اس کے کیا فوائدونقصانات ہیں۔ انشاءاللہ آہستہ آہستہ ہم جانیں گے کہ کرپٹو کرنسی کو کیسے خریدنا ہے، کیسے سٹور کرنا ہے اور کیسے اس کے ساتھ محفوظ سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔
جہلم میں محمد علی مرزا کی ’اکیڈمی پر فائرنگ:‘ ایک مبینہ حملہ آور ہلاک، پولیس اہلکار زخمی
عام زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک سپریڈ شیٹ ہے جس پر بلوک چین کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت درج ہوتی ہے۔ یہ خرید و فروخت بلاکس کی شکل میں شیٹ پر موجود ہوتی ہے جو چینز یعنی زنجیروں کی شکل میں ایک دوسرے سے جُڑے ہوتے ہیں۔
When these developments collide, they create the another thing every single investor will have to master: Value Volatility.