سولانا ٹوکنز for Dummies

ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز یعنی ای ایف ٹیز ایسے پورٹ فولیوز ہیں جو سرمایہ کاروں کو متعدد اثاثوں پر کرپٹو کرنسی خریدے بغیر بولیاں لگانے کی اجازت دیتے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی مذاکرات کار ایران مذاکرات کے لیے پاکستان جائیں گے۔ خبریں

بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی اور پیئر ٹو پیئر پیمنٹ نیٹورک ہے جو آزاد مصدر دستور پر مبنی ہے اور عوامی نوشتہ سودا کا استعمال کرتی ہے۔ بٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ مکمل آزاد کرنسی ہے، جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے بھی خود بنا سکتے ہیں۔ بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلا ڈالر اور یورو سے موازنہ کیا جا سکتا ہے، لیکن رائج کرنسیوں اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے۔ سب سے اہم فرق یہ ہے کہ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی کاغذی یا دھاتی وجود نہیں۔ اسی طرح بٹ کوئن کرنسی کے پیچھے کوئی طاقتور مرکزی ادارہ مثلا مرکزی بینک نہیں ہے اور نہ کسی حکومت نے اب تک اسے جائز کرنسی قرار دیا ہے، اسی وجہ سے ریاستہائے متحدہ امریکا کے وزارت خزانہ نے اسے غیر مرکزی کرنسی قرار دیا ہے، کیونکہ اس کرنسی کو ایک شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی بینک یا حکومتی ادارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم انٹرنیٹ کے ذریعہ بٹ کوئن کو دیگر رائج کرنسیوں کی طرح ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قزاقستان کی نوجوان خاتون جو بٹ کوائن مائننگ میں جانا مانا نام بن چکی ہیں

میرے نمائندے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے: صدر ٹرمپ

یاد رہے سرمایہ کاری سے پہلے مکمل تحقیق کریں کیونکہ اس کی ابھی تک قانونی حیثیت واضح نہیں ہے اور سیکریٹری خزانہ نے بھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں واضح کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کرپٹو کرنسی پر پابندی ابھی برقرار ہے۔

یہ کرنسیاں اداروں کی طرف سے بنائی جاتی تھیں۔ وہی ان کا نظام سنبھالتے تھے لیکن ان میں چند خرابیاں تھیں ۔ مثلاً : اداروں کا دیوالیہ ہو جانا یا صارفین کی رقم لے کر ادراے کا غائب ہو جانا یا مخصوص ممالک کی طرف سے قانونی مسائل کا ہونا۔ ان مسائل کےباعث یہ کرنسیاں زیادہ نہ چل سکیں ۔

بٹ کوائن کو قانونی کرنسی قرار دے دیا جائے تو آپ کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

مذہبی خبریں۔

یہ بطور مثال بٹ کوائن کی ٹرانزیکشن کا طریقہ کار مختصراً ذکر کیا گیا۔ اس میں ایک احتمال باقی ہے وہ یہ کہ کیا حسن واقعتا اس بٹ کوائن کا مالک تھا بھی یا اس نے جعل سازی کے تحت یہ کوائن فرضی طور پر بنا رکھا تھا ؟ عام زندگی میں اس سوال کا جواب کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ دیتے ہیں جس کے تحت وہ یہ ذمے داری لیتے ہیں کہ معاملہ ہر قسم کی جعل سازی سے پاک ہے لیکن بٹ کوائن چونکہ ایک ڈی سینٹر لائیز ڈ ٹیکنالوجی پر قائم ہوتا ہے تو اس میں کوئی ادارہ یا بینک یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس احتمال کو دور کرنے کے لیے تصدیق کا عمل بنایا گیا جس میں یہ احتمال دور کیا جاتا ہے کہ واقعتا حسن اس بٹ کوائن کا مالک تھا اور وہ اس میں کوئی دھوکہ دہی کا معاملہ نہیں کر رہا۔ ہم نے ذکر کیا کہ مختلف کرنسیوں میں یہ تصدیق کا عمل مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ کچھ کرنسیوں میں سٹیکنگ“ کا عمل ہوتا ہے جبکہ بٹ کوائن میں یہ تصدیق کا عمل ” مائیننگ کے ذریعے ہوتا ہے۔

ہاٹ والٹ انٹرنیٹ سے منسلک ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس تک رسائی تیز ہوتی ہے اور اس سے رقوم کی منتقلی بھی آسان ہے۔

پولیس نے پانچ گھنٹے تالاب میں چھپے رہنے والے انتہائی مطلوب چور کو کیسے پکڑا؟

بٹ کوائن مالکان کے ایڈریسز کریپٹو کرنسی کو مختلف زمروں میں ترتیب دیا جاتا ہے۔ (فوٹو: بٹ انفو چارٹس) 

سعودی عرب کا پاکستان کو اضافی تین ارب ڈالر قرض دینے اور موجودہ بلوک چین پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں توسیع کتنی اہم ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *